جلیل عالی ۔۔۔ شاید ذرا سا جان لے رازِ جہان کو

شاید ذرا سا جان لے رازِ جہان کو
اک دوسرے میں دیکھ زمیں ، آسمان کو
رکھا ہے اِس مقامِ یقیں پر گمان کو
جب چاہے لا مکان بنا لیں مکان کو
کشتی اُتارتا ہوں سمندر میں، تو ہَوا
چلتی ہے دیکھ دیکھ رُخِ بادبان کو
سینے میں ایک یاد ہمیشہ جواں رہی
رکھا ہے دُور جس نے زمانے سے دھیان کو
وہ دن بھی تھے کہ دیکھتے تھے دُور دُور تک
طائر تمام رشک سے میری اُڑان کو
بیٹھا ہوا ہے گھات میں کوئی مچان پر
کوئی ہدف بنائے ہوئے ہے مچان کو
کیا جانیے کہ جس کے کہے میں ہے سیلِ وقت
لے جائے کس طرف وہ رُکی داستان کو
عالی خبر نہیں تھی کہ آئے گا ایک دن
اپنا کمالِ عرضِ سخن اپنی جان کو

Related posts

Leave a Comment